اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمنی فوجی ماہر کرنل رشاد الوتیری نے المسیرہ ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یمنی مسلح افواج نے دشمن سعودی عرب کے تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیا اور اس کے تمام حربے بے اثر کر دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یمنی مسلح افواج اپنی خصوصی کارروائیوں کو جاری رکھتے ہوئے وسیع علاقوں میں پہاڑی مقامات کو اپنے کنٹرول میں لے رہی ہیں اور الحجریہ، التربہ اور لحج کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یمنی افواج گزشتہ 12 برس سے یمنی عوام کے خلاف جارحیت اور محاصرے کا سلسلہ جاری رکھنے والے شکست خوردہ سعودی دشمن کا مقابلہ کر رہی ہیں۔
اس فوجی ماہر نے کہا کہ سعودی جارحیت امریکہ اور صیہونی ریاست کی انٹیلی جنس اور رسدی مدد جبکہ یمنی عوام کے قتل عام پر عرب اور مغربی ممالک کی خاموشی کے سائے میں جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمنی مسلح افواج کی کارروائیاں یمن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا جائز حق ہیں۔
الوتیری نے وضاحت کی کہ دشمن اور اس کے فوجی مراکز کے خلاف دفاعی کارروائیاں اور پیشگی حملے منظم، درست اور بھرپور انداز میں کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سعودی حمایت یافتہ گروہوں کے بکھرنے اور فرار کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ یہی وہ گروہ ہیں جو یمنی عوام کو قتل کرتے اور ملک میں فساد پھیلاتے تھے، تاہم آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک اہم تبدیلی ہے، کیونکہ جنگ دفاعی مرحلے سے جارحانہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے جب جارحیت کا آغاز کیا تو ابتدا میں ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا اور جنگ کو صرف یمن کے اندرونی تنازعے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، لیکن بعد میں شہری تنصیبات، مواصلاتی ٹاورز، پانی کے ذخائر اور پلوں کو منظم انداز میں نشانہ بنا کر اس نے اپنا اصل چہرہ ظاہر کر دیا۔ تاہم یمنی عوام نے تسلیم ہونے سے انکار کیا اور یمنی مسلح افواج نے سعودی عرب کے اندرونی علاقوں کو نشانہ بنا کر جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا جغرافیہ اب یمنی مسلح افواج کی پہنچ میں ہے اور جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے، ان میں آل سعود حکومت سے وابستہ فوجی اور اقتصادی تنصیبات شامل ہیں۔
الوتیری نے مزید کہا کہ سعودی دشمن نے یمنی ردعمل اور سعودی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی روکنے کے لیے بین الاقوامی اتحاد بنانے کی کوشش کی، لیکن ایک بار پھر ناکام رہا اور اپنی دولت خرچ کرکے عالمی سطح پر حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بین الاقوامی بحری آمدورفت کی سلامتی کو اہمیت دیتی ہے اور یمنی مسلح افواج اور قیادت بھی اس بات کی تصدیق کر چکی ہیں۔ تاہم سعودی عرب کی جانب سے نیا اتحاد بنانے میں ناکامی کے بعد اس نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنائے جانے کے بارے میں جھوٹے دعوے کرنے اور یمنی عوام کے خلاف تکفیری گروہوں کو اکسانے کا راستہ اختیار کیا۔
الوتیری نے کہا کہ یمنی عوام فلسطین اور سرزمین حرمین سمیت اسلامی مقدسات کے دفاع کے لیے اپنے بہترین بیٹوں کی قربانیاں دے رہے ہیں اور عزت و وقار اور مختلف محاذوں کے اتحاد کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی دشمن آج فوجی، حکمت عملی اور انٹیلی جنس کے تینوں محاذوں پر شکست کھا چکا ہے اور اس کے تمام حربے ناکام ہو چکے ہیں۔ یہی صورتحال اسے شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے پر مجبور کر رہی ہے۔
الوتیری نے تعز کے عوام سے اپیل کی کہ وہ یمنی مسلح افواج اور انقلاب کی قیادت کے گرد متحد ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن آج یمنی عوام کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ کہ صنعا کی حکومت یا یمنی مسلح افواج کے خلاف۔
انہوں نے کہا کہ دنیا آج یمنی مسلح افواج اور عوام میں ایک ایسی ناقابلِ شکست قوت دیکھ رہی ہے جس نے جنگ کے قواعد تبدیل کر دیے ہیں اور ہر ممکن اقدام کے لیے تیار ہے۔ امریکہ اس کارروائی میں شامل نہیں ہوا کیونکہ وہ یمنی حملوں کی شدت سے آگاہ ہے، خصوصاً اس لیے کہ یمنی مسلح افواج کے پاس باب المندب اور بحیرہ احمر جیسے اہم راستے موجود ہیں۔
الوتیری نے آخر میں یمن کی میزائل فورس کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک نیا توازن قائم ہو چکا ہے جس نے سعودی دشمن کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے اور اسے اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ